منگل 15 ستمبر 2026 - 15:41
سوشل میڈیا اور جھوٹے پروپیگنڈے کا کھیل

حوزہ/ سوشل میڈیا کے دور میں پروپیگنڈا پھیلانا شاید پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اس کی چند سیکنڈ کی ویڈیو سامنے آتی ہے اور پھر بغیر تحقیق کے اس کی اپنی مرضی کی تشریح شروع ہو جاتی ہے۔ تحقیق بعد میں ہوتی ہے، پوسٹ اور شیئر پہلے!

تحریر: سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی | سوشل میڈیا کے دور میں پروپیگنڈا پھیلانا شاید پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اس کی چند سیکنڈ کی ویڈیو سامنے آتی ہے اور پھر بغیر تحقیق کے اس کی اپنی مرضی کی تشریح شروع ہو جاتی ہے۔ تحقیق بعد میں ہوتی ہے، پوسٹ اور شیئر پہلے!

حال ہی میں ہندوستان کے دورے کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ایک مختصر ویڈیو بھی اسی سوشل میڈیا رویے کا شکار ہوئی۔

ایرانی صدر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے تھے، جہاں ایران کے علاوہ چین سمیت دیگر ممالک کے نمائندے بھی شریک تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں، علماء، ہندو مذہبی رہنماؤں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان سے ملاقات کی۔ بعض افراد نے انہیں خطوط پیش کیے اور اپنی حمایت و یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

اسی دوران ایرانی صدر کے ہاتھ سے ایک قلم اور کاغذ نیچے گر گیا۔ وہ انہیں اٹھانے کے لیے جھکے تو ان کے قریب کھڑے ایک ہندو مذہبی رہنما بھی اسی وقت جھک گئے۔

بس، معاملہ اتنا ہی تھا!

لیکن سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے اسی چند سیکنڈ کے منظر کو کاٹ چھانٹ کر اس طرح پیش کیا، جیسے ایرانی صدر نے کسی مذہبی شخصیت کے قدموں میں جھک کر کوئی ایسا عمل انجام دیا ہو جو ان کے عقیدے سے متعلق ہو۔ اس کے بعد پوسٹوں، تبصروں اور مختلف قسم کے دعووں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اصل ویڈیو دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی اور نہ یہ سوچا کہ چند لمحوں کے ایک منظر سے اتنا بڑا نتیجہ کیسے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

یہی سوشل میڈیا کے دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ویڈیو کا ایک حصہ پورے واقعے کی جگہ لے لیتا ہے، جذباتی عنوان حقیقت پر غالب آجاتا ہے اور بغیر تحقیق کے ایک دعویٰ ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔

مسئلہ صرف غلط فہمی کا نہیں، بلکہ اس وقت زیادہ سنگین ہوجاتا ہے جب کسی واقعے کو جان بوجھ کر اس کے اصل سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا جائے۔ ایسی صورت میں مقصد حقیقت جاننا نہیں بلکہ اپنی پسند کا تاثر قائم کرنا ہوتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک سادہ مگر اہم سبق دیتا ہے کہ ویڈیو دیکھ لینا، حقیقت جان لینے کے مترادف نہیں۔

سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر، تصویر یا ویڈیو کو آگے بڑھانے سے پہلے پوری ویڈیو دیکھنی چاہیے، اصل واقعے کا پس منظر معلوم کرنا چاہیے اور ممکن ہو تو معتبر ذرائع سے اس کی تصدیق بھی کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم نادانستہ طور پر کسی کے جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ تو نہیں بن رہے۔

آج کے دور میں جھوٹ کو پھیلانے کے لیے لمبی کہانی یا مضبوط دلیل کی ضرورت نہیں؛ چند سیکنڈ کی کٹی ہوئی ویڈیو اور چند جذباتی جملے ہی کافی ہیں۔ اس لیے ذمہ دار شہری اور باشعور سوشل میڈیا صارف ہونے کا تقاضا ہے کہ شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کریں، اور جذبات سے پہلے حقیقت کو اہمیت دیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha